Phone:

+92-300-7517775

Fax:

+92-333-6432000

Email:

info@kotmithan.com
Daily News
Hazrat Khwaja Ghulam Fareed URS celebration beginning .  -  Three-days Ceremonies Of URS Of The Famous Saint And Sufi Poet Of the South Punjab Hazrat Khwaja Ghulam Fareed will be Starting  From 6th February.KFF is The Host Of The Celebration Ceremony.  Diwan-e- Fareed new research, which the Author is Mr. Mujahid Jatoi are celebration ceremony will be held on February 7th in Qaser-e-Fareed. KFF is the  host of the celebration ceremony. The Delegation Of Khwaja Farid College Rahim Yar Khan, Visit The Kot Mithan. A Delegation Of The Professors And Lecturers In The Leadership Of Mr. Chaudhry Mohammad Akram Principal Khwaja Fareed College Rahim Yar Khan Visited The Kot Mithan. After Darbar –e-Fareed Thay Also Visit The Khawaja Fareed Museum And Then They Attended a Ceremony Arranged by KFF, in Qaser-e-Fareed.  

دیوان فریدؒ

کافی نمبر 1

مصرعے 30 الفاظ26.
اج سا نو لڑے مکلا یا
اج سانولڑے مکلایا سربار ڈکھاں دا چا یا

آج محبوب ملیح ہم سے رخصت ہو نے لگا ۔سر پر دکھو ں کا بو جھ آ پڑا
اے قبلہ اقدس عالی ہر عیب کنو ں ہے خا لی
اتھ عبد عبید سوالی جیں جو منگیا سو پا یا
یہ قبلہ ،مقدس ہے ،عالی مرتبت ہے ،ہر عیب سے پا ک ہے
یہا ں پر ہر بندہ سوالی ہے اور جس نے جو ما نگا پا لیا
وہ امن اللہ معظم ْ وہ حرم اللہ محرم
ْ وہ بیت اللہ مکرم ہے رحمت دا سرما یا

واہ کیسا پر عظمت مقام امن ہے ۔ وا ہ ،خا نہء خدا کتنا محترم ہے ۔سبحا ن اللہ
خدا کا گھر کتنا لا ئق اعزازواکرام ہے،بیشک یہ سرمایہ رحمت ہے۔
اے نو ر سیا ہ مجسم ہے عین سواد الاعظم
تھیا بیشک آمن بے غم جو حرم ا حا طے آیا

یہ نور سیا ہ پیکر انواروتجلیات ہے ،عا لم اسلا م کا عظیم اکثریتی مرکز ہے،
یہا ں جو بھی آیا ،بیشک امن اور بے فکری کی نعمتوں سے سرفرا ز ہو ا ۔
کر یا د حریم حرم کوں رکھ پیش پرا نے غم کوں
دل آکھے کھا نواں سم کو ں ہے جیو ن کو ڑ اجا یا

حرم کعبہ کو اور اپنے سوزدیر ینہ کو یا د کر کے ،دل کہتاہے ، زہر کھ الے
کیو نکہ اس کے بغیر ،زندگی ، بے مصرف ہے۔
ہؑ ن وا گا ں وطن ولا یا ں لکھ مو نجھ منجھا ریا ںآیا ں
دل سچڑیا ں پتیا ں لا یا ں ول میلیں با ر خدایا

اب سوا ریو ں کا رخ وطن کی طرف ہو گیا ، ہزار غم اندو ہ ہما رے حصے
میں آگئے دل میں عشق صا دق نے گھر کر لیا ،اے میرے خدا ، ایک دفعہ
پھرہمیں اسکا دیدار کرا دینا
دل دلبر کیتے سکے گھر شہر با زا ر نہ ٹکے
ونج کھو سو ں طو ف دے دھکے ْ ول جیکر بخت بھڑایا

دل ،دلبر کے لئے ترستا ہے گھر ، شہر ، با زا ر کسی جگہ قرار نہیں پا تا اگر بخت
نے یا وری کی تو ایک دفعہ پھر طو اف کے مرا حل ضرور طے کریں گے۔
بن یا ر فرید نجرساں رت رو رو آہیں کرساں
غم کھا کھا اوڑک مرسا ں ڈکھ ڈکھڑیں جیڑا تا یا

فرید ، میں دوست کے بغیرگھلتا رہوں گا ،خو ن کے آنسو بہا ؤ ں گا اور غم کھا
کھا کر آخر کا ر مر جا ؤ ں گا ، دردرو غم کی آگ نے مجھے جلا یا دیا ہے۔

کافی نمبر 2
مصرعے 32 الفا ظ را گ مالکونس
انہد مرلی


گؑر نے پو رے بید بتا ئے عقل فکر سب فہم گما ئے
مد ہو شی وچ ہو ش سکھا ئے سارا سفر عروج سجھا یا

پیر ومر شد نے تما م اسرار ورمو ز با طنی بتلا دیئے ،جن کی وجہ سے عقل و فکر کا فہم وادراک جا تا رہا ،جذب و کیف میں علوم رو حا نی سکھلا دیئے ،اور مدرا ج اعلیٰ طے کرا دیئے
وحدت عین عیان ڈٹھوسے طمس حقیقی سمجھ لیو سے
مخفی کل اظہا ر تھیو سے ہر گن گیان دے گیت نو ں پا یا

نو ر و حدا نیت ،،انہیں آنکھوں سے دیکھ لیا ، فنا ئیت کا ادراک حا صل کر لیا ۔ تما م پو شیدہ امو ر کا مشاہدہ کر لیا اور علم وجدان کو پا لیا ۔
تھئے واضح مشہور وقا ئق تھئے لا ئح انوار حقا ئق
ظاہر گجھ سب کجھ دے لا ئق قرب تے بعد دا فرق اٹھا یا

تما م پیچیدہ اور مشکل مسائل واضح ہو گئے ،حقا ئق کے انوارہ تجلیات روشن ہو گئے عیاں ، اور نہاں سب کچھ سمجھ میں آ گیا ،نزدیکی اوردوری کا فرق مٹ گیا ۔
ہنسی خو ب بتا یا ں با تاں گجھڑے راز انو کھیاں گھا تا ں
گم تھیاں کو ڑیاں ذات صفا تاں لمن الملک دا دورہ آیا

الہا می سا ز نے کیا ہی خو ب تفصیل بتا دی اور کیسے حل طلب راز اور انو کھے انداز سمجھا دیئے ، اپناآپ بیچ میں سے ہٹ گیا اور فرما ن الہیٰ کا دور آگیا
خمر طہو روں پی پیما نے تھیو سے عا شق مست یگا نے
بھل گئے صوم صلوۃ دو گا نے رندی مشرب سانگ رسا یا

مشروب معرفت کے جا م پی کر ،ہم عاشق بے مثال مست ومخمو ر ہو گئے ، احکا م شرعی کی سدھ نہ رہی اور رندی سوانگ رچا لیا
جا نے کو ن گنوار مقلد ْ وہ ْ وہ ریت مقدس جید
تھی مطلق بے قید موحد مسجد سورت وچ آپ سما یا

کو ئی جا ہل پیرو کا ر ہما رے مسلک کو کس طرح سمجھ سکتا ہے ۔ اسے اس مقدس اور حقیقی راہ کی کیا خبر،اسے تو تعینا ت سے آزاد ہو کر ایک عا رف
کی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ تو کا ئنا ت کے ذرہ ذرہ میں سما یا ہو اہے

جب ہک رمز ملی تو حیدوں دل آزاد ڈٹھم تقلیدوں
تھی کر فرد، فرید ! فریدوں سری رو حی وعظ سنا یا

جب تو حید کا بھیدسمجھ میں آگیا تو میرا دل کو راز تقلید سے آزاد ہو گیا اور فرید ،نے فریدیت اور انسا نیت میں منفرد ہو کر ، اسرارو رمو ز رو حا نی کی تلقین شروع کر دی۔

کا فی نمبر3

محبو ب حقیقی مظا ہر کا ئنا ت کی صورت میں جلو ہ فرما ہو گیا ۔ اور ہر صورت میں واضح طو ر پر نما یا ں ہو گیا ۔
کتھے آدم ؑ تے کتھے شیث ؑ نبی کتھے نو ح کتھا ں طو فا ن آیا
کتھے ابرا ہیم ؑ خلیل نبی کتھے یو سف ؑ وچ کنعا ن آیا

کہیں پر آدم ؑ اور کہیں پر حضرت شیث ؑ اور کہیں پرحضرت نوح ؑ اور طو فان نو ح کہیں پر ابرا ہیم خلیل اللہ اور کہیں حضرت یو سف ؑ کی شکل میں جلو ہ نما ہو ا۔
کتھے عیسیٰؑ تے الیاس ؑ نبی کتھے لچھمن رام تے کان آیا
کتھے ذکریا ؑ کتھے یحییٰ ؑ ہے کتھے موسیٰؑ بن عمران آیا

کہیں پرحضرت ذکریاؑ اور کہیں پر یحییٰؑ ،کہیں پر حضرت مو سیٰ ؑ بن عمران کہیں پر عیسیٰ اور حضرت الیاس ؑ کی صورت اور کہیں لچھمن را م اور کرشن میں ظا ہر ہوا
بو بکر ؓ عمر ؓ عثما نؓ کتھاں کتھے اسدؓ اللہ ذیشان آیا
کتھے حسنؓ حسینؓ بنے کتھے مرشد فخر جہان آیا

کہیں خلفا ئے راشدین کی سیرت میں اور کہیں حسنین کر یمین کی شہادت میں اور کہیں پرمیرے مرشد حضرت فخر جہان کی صورت میں اپنی صفات کا اظہا ر کیا ۔
کتھے احمد شاہ رسولاں دا محبوب سبھی مقبولا ں دا
دستار نفوس عقولاں دا سلطاناں سر سلطان آیا

کہیں پر حضرت احمد مجتبیٰ ﷺمیں جلوہ نماہوا ۔ جو سلطان الانبیا ء،معلم ملا ئکہ اور شہنشاہ عا لم ہیں ۔
تنزیل کتھا ں جبریل کتھاں توریت زبورانجیل کتھاں
آیا ت کتھاں ترتیل کتھاں حق با طل دا فرقان کتھاں

کہیں پر نزول وحی کی صورت ،کہیں پر جبریل ، توریت زبور انجیل کی صورت ،کہیں پر آیا ت وتلا وت کی صورت اور کہیں پر حق وبا طل کا فرق کرنے وا لا قرآن آیا ۔
کل شئے وچ کل شئے ظاہر ہے سوہنٹاظاہر عین مظاہر ہے
کتھے ناز نیاز داماہر ہے کتھے درد کتھاں درمان آیا

تما م اشیائے کا ئنات میں اس کاظہور ہے،یہ صاحب حسن وجمال اپنے مظاہر میں واضح طور پر موجود ہے ناز نیاز کے انداز میں اور کہیں درد اور کہیں درما ن کی صورت میں جلو ہ گر ہے۔
کتھے ریت پریت دا ویس کرے کتھے عا شق تھی پر دیس پھرے
کھلے گل وچ مارو کیس دھرے لٹ دھا ری تھی مستا ن آیا

کہیں مہر محبت کا رنگ اختیار کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور کہیں عا شق بن پردیس پھرتا ہے ،کبھی زلف بدش قا تل اور کبھی زلف دراز ملنگ کی صورت اختیا ر کر لیتا ہے۔
کتھے پنڈت جو سی ہے کتھے سا می تے کتھے بھو گی ہے
کتھے مصر برا گی روگی ہے کتھے بید بیا س گیا ن آیا

کہٰیں پنڈت ہے ،جو تشی ہے،جو گی ہے اور کہیں سو امی اور سخت ریا ض فقیر ہے کہیں پر ہیز گا ر ہےکہیں گنہگار ہے اور کہیں ویا س ہے ۔
خا مو ش فرید اسرار کنوں چپ بے ہو !دی گفتا ر کنو ں

پر غا فل نہ تھی یا ر کنو ں ایہو لا ریبی فر ما ن آیا
فرید خا مو ش ہو جا ، یہ راز کی با تیں اتنے عمو می ا ندا ز سے ظا ہر نہ کر بس اپنے دوست سے غا فل نہ ہو ،یہی حکم الہیٰ ہے۔

کا فی نمبر 4
مصرعے 27 الفا ظ33
را گ جو گ
تا ں وی کیا تھی پیا
تھئی تا بع خلقت سب تا ں وی کیا تھی پیا
ہئی گم تھیون مطلب

تما م مخلو ق تمہا رے تا بع فرا ما ن ہو گئی ،تو بھی کیا ہو ا،اصل مقصد تو آپکو مٹا کر فنا ئیت حا صل کر نا ہے۔

تیدا رشد ارشاد تو نیں ونج پہنتا عجم عرب
تا ں وی کیا تھی پیا

بیشک تمہا را ارشد ہدا یت عرب وعجم تک پہنچ گیا پھر بھی کیا ہو ا۔
پڑھ پڑھ بید پران صحا ئف پیا سکھیو ں علم ادب
تا ں وی کیا تھی پیا

وید ،پرا ن،صحا ئف پڑھ پڑھ کر،علم و ادب سیکھتے رہے تو بھی کیا ہو ا۔
سارے جگ تے حکم چلا نو یں پا شا ہی دا منصب
تا ں وی کیا تھی پیا

تما م کا ئنا ت پر حکمرا نی ہو گئی ، شا ہی منصب حا صل ہو گیا تو بھی کیا ہو ا۔
زہد عبا دت عا دت تیڈی بیا کیتو کشف کسب
تا ں وی کیا تھی پیا

زہد و عبا دت تمہا ری فطرت ثا نیہ بن چکی ،اور کشف و کرا ما ت کا اعزاز حا صل ہو گیا تو بھی کیا ہو ا۔
دنیا دے وچ عزت پا تو گیو ں عقبیٰ نا ل طرب
تا ں وی کیا تھی پیا

دنیا میں عز ت پا لی آخرت میں بھی بخوشی جا رہے ہو تو بھی کیا ہو ا۔
سنی پا ک تے حنفی مذہب رکھیو صوفی دا مشرب
تا ں وی کیا تھی پیا

اہلسنت کا صا ف ستھرا حنفی مسلک اختیا ر کر لیا ۔صو فیو ں کا مشرب قبو ل کر لیا ،تو بھی بھی کی اہو ا۔
وچ آثا ر، افعا ل، صفا تیں جے یا ر گھدوئی لبھ
تا ں وی کیا تھی پیا

علا متو ں میں ،افعا ل میں اور اوصا ف میں اگر تم نے اپنے محبو ب کو پا لیا تو بھی کیا ہو ا۔
غو ثی قطبی، رتبہ پا یو تھیوں شیخ شیوخ لقب
تا ں وی کیا تھی پیا

غیو ثیت وقطبیت کا اعزاز حا صل کر کے شیخ المشا ئخ کا لقب حا صل کرلیا ، تو بھی کیا ہو ا۔
شعر فرید تیڈا ونج ہلیا ہند ما ڑ ڈکھن پو رب
تا ں وی کیا تھی پیا

فرید ،بے شک تمہا رے شعر ،ہند ،مارواڑ،دکن اور پو رب تک مشہو ر ہو گئے ،تو بھی کیا ہو ا

(اصل مقصد تو اپنے آپ کو مٹا نا ہے۔)

کا فی نمبر 5
مصرعے 28 108الفا ظ
را گ تلنگ
تیڈے نیناں تیر چلا یا
تیڈے نینا ں تیر چلا یا تیڈی رمزا ں شو ر مچا یا

تیرے تیر نظر نے اور رمزو کنایہ نے دھو م مچا دی ۔
المست ہزار مرا یا لکھ عاشق ما ر گنوا یا
ہزار ہا مست حالو ں کو ہلا ک کرا دیا اور لا کھو ں عا شقوں کو فنا کرا دیا
ابرا ہیم اڑا ہ اڑایو با ر برہو ں سر چا یا
حضرت ابرا ہیم کو جلتے شعلو ں میں ڈا لااور انھوں نے عشق کا بو جھ خو شی سے اٹھا لیا
صا بر دے تن کیٹرے بچھے مو سیٰ طو ر جلایا
حضرت ایو ب کے بدن میں کیڑے ڈا ل دئیے اور حضرت مو سیٰ کو جلو ہ کے لئے کو ہ طو ر جلا دیا ۔
زکریاؑ کلو تر چرا یو یحییٰ گھو ٹ کو ہا یا
حضرت زکریاؑ کو آرے سے چرا دیا اور حضرت یحییٰ جیسے دلھا کو ذبح کرا دیا ۔
یو نس ؑ پیٹ مچھی دے پا یو نو حؑ طو فا ن لڑھا یا
حضرت یو نس کو مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا ۔اور حضرت نو ح ؑ کو طو فا ن میں بہا دیا ۔
شاہ حسن کو ں شہر مدینے زہر دا جا م پلا یا
شہنشا ہ حسن کو مدینہ شہر میں زہر کا جا م پلا دیا ۔
کربلا میں تیغ چلا یا کر ایڑھا کیس کرا یا
کر بلا میں تلو ار چلا کر اتنا بڑا غیر معمعولی قہر و غضب اور ظم و ستم بر پا کر دیا ۔
شمس الحق دی کھل کھلا یو سرمد سر کپو ایا
حضرت شمس الحق کی کھا ل اترا وا ئی اور سرمد کا سر کٹو ادیا ۔
شا ہ منصو رچڑھا یو سو لی مستی سا نگ رسا یا
حضرت منصور کو سولی پر لٹکا کر عشق و مستی کا انو کھا کھیل رچا یا ۔
مجنو ں کا رن لیلیٰ ہو کر سو سو نا ز ڈکھا یا
مجنو ں کی خا طر لیلیٰ بن کر سو سو نا ز دکھا ئے ۔
16
166الفا ظ را گ جو گ
چو ڑا انا ڈے جیسلمیردا
چو ڑا انا ڈے جیسلمیر دا سو ہا رنگا ڈے خا ص اجمیر دا

میرے محبو ب مجھے جیسلمیر کی چو ڑیا ں اور خا ص اجمیر کا رنگ کیا ہو ادوپٹہ منگو ادو ۔
ہو وے اصلی کا ص مڑیچہ نہ نقلی ول پھیر دا
مارواڑ کے علا قے کا اصلی دوپٹہ چا ہیئے ،نقلی نہیں ۔
جلدی آوے نہ چر لا وے کم نہیں اتھ دیر دا
جلدی منگو ادے ،دیر نہیں لگنی چا ہیئے ، کیو نکہ تا خیر ہمیں پسند نہیں ۔
برہو ں دا چوڑا پریت دا سو ہا کا ک ندی دے گھیر دا
عشق کی خو شبو سے معطر چو ڑیا ں ،اور کا ک ندی کا محبت ووفا سے مملو دو پٹہ چا ہیئے۔
بچھوا بیکا نیری گھنساں سجڑے کھڑے پیر دا
دائیں اور با ئیں پا ؤ ں کے لئے میں بیکا نیر کی بنی ہو ئی پا زیبیں بھی لو ں گی ۔
سہجوں پیساں پا ٹھمکیساں تھو را چیساں ڈیر دا
یہ سب میں خو ش ہو کر پہنو ں گی اور اپنی سج دھج دکھلا ؤ ں گی ، چاہئے اس کے لئے مجھے دیو ر کا احسا ن کیو ں نہ اٹھا نا پڑے
یا ر فرید منیندم آکھیے کیا غم یئے دے ویر دا
فرید! میرا محبو ب میرا کہا ما نتا ہے، مجھے غیروں کی دشمنی کا کیا غم۔

کا فی نمبر 7
مصرعے 66 101الفاظ را گ جو گ


حسن قبح سب مظہر ذاتی
حسن قبح سب مطہر ذاتی ہر رنگ میں بے رنگ پیا را
نیک وبد سب اسی کی زات کا اظہا ر ہیں ہر رنگ میں وہی بے رنگ پیا را مو جو د ہے ۔